<Previous>
THE REAL FACE OF UC BIROTE
ان بچیوں کیلئے ایک دعا ۔۔۔۔۔۔ یہاں کلک کیجئیے
تمام عمر تجھے زندگی پیار ملے
THE REAL FACE OF UC BIROTE
![]() |
بیروٹ کی ننھی ننھی اور معصوم حوریں |
تمام عمر تجھے زندگی پیار ملے
Mukhlis Birotvi tribute to his birthplace from Mansehra
Union Council Birote is integral and ended part in South East of Khyber Pakhtunkhwa Province of Pakistan. Union Council starts on the provincial border of Murree Hills, Northren Punajb in South and touches with Azad Kashmir on River Jhelum in East. Unoin Council Bakote that was a part of UC Birote before 1980 in North and the Moshpuri and Ayoubia, the 3rd highest peak of Pakistan in west. (Read more)
Written and compiled by
MOHAMMED OBAIDULLAH ALVI
Senior Journalist, Blogger, Anthropologist and Historian
(Cell # 0331-5446020) Email: alvibirotvi@gmail.com
موشپوری کے بارے میں دو نظریات
دونوں اپنی جگہ جواز رکھتے ہیں
-----------------
موشپوری آدھی یو سی بیروٹ اور آدھی نتھیا گلی میں ہے
------------------
یہاں پر 1955ء میں پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی یاترا پر آئے تھے اور بنارس کے مقدس بندر بھی یہاں چھوڑے تھے
*************************
تحقیق و تحریر
محمد عبیداللہ علوی
**************************
ممبران ڈسٹرکٹ و تحصیل کونسل
خالد عباس عباسی
قاضی سجاول خان
ابن مشرف نظام میں یونین کونسل بیروٹ کے پہلے ناظم
طاہر فراز عباسی ایڈووکیٹ
ابن مشرف نظام میں بیروٹ کے دوسرے اور آخری ناظم
آفاق احمد عباسی
چیئرمین وی سی بیروٹ خورد
رحیم دادا عباسی آف بھن
Kawaja Mohammed Abbasi
Chairman VC Julyal, Bandi
آخری جنرل سیکرٹری یونین کونسل بیروٹ
اعجاز احمد عباسی آف نکر موجوال، بیروٹ خورد
یوسی بیروٹ کے چھ ویلیج ناظمین کے ساتھ گروپ فوٹو
(Cell # 0331-5446020) Email: alvibirotvi@gmail.com
دونوں اپنی جگہ جواز رکھتے ہیں
-----------------
موشپوری آدھی یو سی بیروٹ اور آدھی نتھیا گلی میں ہے
------------------
یہاں پر 1955ء میں پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی یاترا پر آئے تھے اور بنارس کے مقدس بندر بھی یہاں چھوڑے تھے
*************************
تحقیق و تحریر
محمد عبیداللہ علوی
**************************
کچھ قدرت کی بنائی ہوئی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ۔۔۔۔۔۔ سوچنے والے کا دماغ اور لکھنے والے کے قلم ۔۔۔۔۔۔ کو جکڑ لیتی ہیں کہ وہ اس کا ذکر بھی فراموش نہ کرے ۔۔۔۔۔ قدیم ہند کی مقدس ترین ہندو مت کی کتاب ۔۔۔۔۔ مہا بھارت ۔۔۔۔۔ ہو قدیم ہند کا پہلا دستور اور یا کوٹلیہ چانکیہ کی ۔۔۔۔۔ ارتھ شاستر ۔۔۔۔۔ وہ بھی اس موشپوری کو فراموش نہ کر سکے ۔۔۔۔۔۔
بعض پاکستانی علمی حلقے ۔۔۔۔۔ موکش پوری بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دراصل موکش ایک سنسکرت لفظ ہے جس کے معانی ،،،،، گناہوں سے مغفرت ،،،،، بھی ہیں اور اس کا ایک خاص پس منظر بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ گزشتہ 5 ہزار سال سے قدیم ہند کا مقدس ترین شہر اور دارالحکومت ،،،،، ٹیکسلا ،،،،، رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ انتھراپالوجی کے سابق تا حیات چیئرمین احمد حسن دانی مرحوم و مغفور اور ٹیکسلا کی کھدائیوں کے بانی سر جان مارشل سمیت تمام ماہرین آثاریات و علم الانسان یا علم البشریات اس بات پر متفق ہیں کہ قدیم ہند کے دارالحکومت ،،،،، ٹیکسلا،،،، میں ماہر ریاضی پانانی اور ماہر سیاسیات کوٹلیہ چانکیہ جیسے پروفیسرز کی مشہور عالم ۔۔۔۔ بدھا یونیورسٹی ۔۔۔۔۔ اور اس کا دوسرا کیمپس شاردہ آزاد کشمیر میں بھی تھا ۔۔۔۔۔ جہاں طالب علم گریجویشن شاردہ میں کرتے تھے جبکہ تخصص (Specialization) ٹیکسلا میں ہوتا تھا ۔۔۔ شاردہ سے ٹیکسلا جانے کا راستہ ،،،،، پتن،،،، یا موجودہ گوجر کوہالہ تھا، اس زمانے میں کنیر پل سے تین سو فٹ اوپر سے ،،،،، وتستا ندی یا کشن گنگا یا موجودہ دریائے جہلم ،،،،، دومیل سے گزرتا تھا ۔۔۔۔۔ آپ لمحہ موجود میں اس کے آثار اسی دومیل، اس کے سامنے کنیر پل کے ڈاک بنگلہ کے کھنڈرات سے سو فٹ اوپر اور دریائے جہلم کے پار نئے بازار کے پٹرول پمپ کے پیچھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہاں سے ٹیکسلا جانے والے یاتری اور طلباء دریا پار کر کے موجودہ ہوتریڑی، جو اس وقت ایک شہر تھا اور بعد میں تین سو قبل مسیح میں نکر موجوال کی لینڈ سلائیڈ میں دب گیا تھا ۔۔۔۔ یہاں قیام کرتے تھے۔۔۔ پھر یہاں سے براستہ مونی ڈھیری (یہاں پر راقم نے اس عہد کا ایک سنگی زینہ بھی دیکھا ہے) سے ہوتے ہوئے موشپوری کی چوٹی پر موجود شوالہ یا شیو مندر میں ماتھا ٹیکتے تھے، موشپوری کی شیو مندر والی سائٹ یو سی بیروٹ اور اس سے آگے یو سی نتھیا گلی میں ہے (ہندوئوں کے اس مندر کے بھولے بسرے کھنڈرات اب بھی نہایت بوسیدہ حالت میں موجود ہیں۔ یہاں پر 1962ء میں پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی یاترا پر آئے تھے اور بنارس کے مقدس بندر بھی یہاں چھوڑے تھے) یہاں سے وہ نیچے اتر کر نتھیا گلی میں دھیان گیان میں مصروف وہ اپنے ناتھ یا پیروں کے پائوں کو چومتے ۔۔۔ اگلے روز وہ تھوبہ (موجودہ باڑیاں) اور لورہ سے ہوتے ہوئے ٹیکسلا کی بدھا یونیورسٹی میں پہنچتے ۔
موشپوری کے نام کے بارے میں دو نظریات ہیں ۔۔۔۔۔ ایک مہا بھارت والا ۔۔۔۔۔ جہاں سے مہابھارت کی جنگ عظیم کے دوران ۔۔۔۔۔۔ سیتا دیوی اور کرشن جی مہاراج کے زخموں کو بھرنے کیلئے ان کا ایک جرنیل ۔۔۔۔۔ ہنو مان جی ۔۔۔۔۔ پوری موشپوری کو اٹھا کر لے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ دوسرا نظریہ مقامی ہے اور اس کا تعلق موجودہ موجوال ڈھونڈ عباسی برادری کے جد امجد ،،،،، موج خان ،،،،، سے کے نام سے ماخوذ ہے ۔۔۔۔۔۔ موج خان ۔۔۔۔۔ پندرھویں صدی کے ایک فیوڈل لارڈ تھے، نکودر خان ان کے ہم عصر تھے ۔۔۔۔۔۔ خاندانی تقسیم میں موش پوری کی چوٹی سے لیکر موجودہ وی سی باسیاں کے کچھ حصے سمیت کنیر کے مغربی کنارے تک شرقاً غرباً اور پورا ہوترول، پوری نکر موجوال، ہوتریڑی اور موہڑہ کا کچھ حصہ ان کی ملکیت بنا ۔۔۔۔۔ وہ سال میں دو بار اپنی بہک سردیوں میں نکر موجوال اور گرمیوں میں مونی ڈھیری لے جاتے تھے ۔۔۔۔۔ وہ ایک سخی، مہماندار اور شب زندہ دار بزرگ تھے ۔۔۔۔۔ اپنی ان صفات کی وجہ سے وہ بے حد مشہور بھی تھے ۔۔۔۔ کہتے ہیں ان کی وفات تک موشپوری کا نام بھی نتھیا گلی ہی تھا مگر ان کے پردہ پوشی کے بعد پہلے اس جگہ کا نام ۔۔۔۔۔ موج پوری اور پھر بگڑ کر ،،،،، موشپوری ،،،، ہو گیا ۔
عصر حاضر میں بھی ہر شاعر کو موشپوری نے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کے پہلے عربی، فارسی اور اردو شاعر، عالم دین اور ماڈرن ٹیچر مولانا محمد یعقوب علوی بیروٹوی بھی موشپوری سے صرف نظر نہیں کر سکے ہیں ۔۔۔۔۔ اپنی کتاب ،،،،، نغمہ جہاد ،،،،، میں موشپوری کو یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ؎
عطا کی محکمی اور، سربلندی کوہساروں کو
ردائے برف سے مستور کر دی ان کی پیشانی
ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے سابق ٹیچر اور بیروٹ سے مانسہرہ ہجرت کرنے والے سابق ٹیچر اور شاعر ۔۔۔۔۔ اقبال حسین شاہ مخلص بیروٹوی ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ ؎
اے کوہ موشپوری ۔۔۔۔۔ اے شاخ کوہ ہمالہ
ادنیٰ کسی کے فن کا، تو بھی تو ہے حوالہ
اسی طرح ۔۔۔۔۔۔ بکوٹ کے انیسویں صدی کے یو سی بکوٹ کے شاعرغلام غوث کیانی نے بھی اپنے پنجابی شاعری کے کتابچے میں موشپوری کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو خانپور کے راجہ خانی زمان کیانی نے اپنی کتاب ،،،،، تاریخ گکھڑاں ،،،،، میں پورا دیا ہے ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ اور بالخصوص وی سی باسیاں کے علمی جدون خاندان کی پہلی اور فی الحال آخری خاتون شاعرہ ۔۔۔۔۔ فخرالنساء فخری جدون ۔۔۔۔۔۔ نے بھی اپنی پنجابی کتاب میں کوہ موشپوری کو بڑا پر اثر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
------------------------
بدھ23/جنوری2019
A praised poem of Mukhlis Birotvi about Moushpori Mountain, the 3rd highest peak of KPKبعض پاکستانی علمی حلقے ۔۔۔۔۔ موکش پوری بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دراصل موکش ایک سنسکرت لفظ ہے جس کے معانی ،،،،، گناہوں سے مغفرت ،،،،، بھی ہیں اور اس کا ایک خاص پس منظر بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ گزشتہ 5 ہزار سال سے قدیم ہند کا مقدس ترین شہر اور دارالحکومت ،،،،، ٹیکسلا ،،،،، رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ انتھراپالوجی کے سابق تا حیات چیئرمین احمد حسن دانی مرحوم و مغفور اور ٹیکسلا کی کھدائیوں کے بانی سر جان مارشل سمیت تمام ماہرین آثاریات و علم الانسان یا علم البشریات اس بات پر متفق ہیں کہ قدیم ہند کے دارالحکومت ،،،،، ٹیکسلا،،،، میں ماہر ریاضی پانانی اور ماہر سیاسیات کوٹلیہ چانکیہ جیسے پروفیسرز کی مشہور عالم ۔۔۔۔ بدھا یونیورسٹی ۔۔۔۔۔ اور اس کا دوسرا کیمپس شاردہ آزاد کشمیر میں بھی تھا ۔۔۔۔۔ جہاں طالب علم گریجویشن شاردہ میں کرتے تھے جبکہ تخصص (Specialization) ٹیکسلا میں ہوتا تھا ۔۔۔ شاردہ سے ٹیکسلا جانے کا راستہ ،،،،، پتن،،،، یا موجودہ گوجر کوہالہ تھا، اس زمانے میں کنیر پل سے تین سو فٹ اوپر سے ،،،،، وتستا ندی یا کشن گنگا یا موجودہ دریائے جہلم ،،،،، دومیل سے گزرتا تھا ۔۔۔۔۔ آپ لمحہ موجود میں اس کے آثار اسی دومیل، اس کے سامنے کنیر پل کے ڈاک بنگلہ کے کھنڈرات سے سو فٹ اوپر اور دریائے جہلم کے پار نئے بازار کے پٹرول پمپ کے پیچھے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہاں سے ٹیکسلا جانے والے یاتری اور طلباء دریا پار کر کے موجودہ ہوتریڑی، جو اس وقت ایک شہر تھا اور بعد میں تین سو قبل مسیح میں نکر موجوال کی لینڈ سلائیڈ میں دب گیا تھا ۔۔۔۔ یہاں قیام کرتے تھے۔۔۔ پھر یہاں سے براستہ مونی ڈھیری (یہاں پر راقم نے اس عہد کا ایک سنگی زینہ بھی دیکھا ہے) سے ہوتے ہوئے موشپوری کی چوٹی پر موجود شوالہ یا شیو مندر میں ماتھا ٹیکتے تھے، موشپوری کی شیو مندر والی سائٹ یو سی بیروٹ اور اس سے آگے یو سی نتھیا گلی میں ہے (ہندوئوں کے اس مندر کے بھولے بسرے کھنڈرات اب بھی نہایت بوسیدہ حالت میں موجود ہیں۔ یہاں پر 1962ء میں پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو بھی یاترا پر آئے تھے اور بنارس کے مقدس بندر بھی یہاں چھوڑے تھے) یہاں سے وہ نیچے اتر کر نتھیا گلی میں دھیان گیان میں مصروف وہ اپنے ناتھ یا پیروں کے پائوں کو چومتے ۔۔۔ اگلے روز وہ تھوبہ (موجودہ باڑیاں) اور لورہ سے ہوتے ہوئے ٹیکسلا کی بدھا یونیورسٹی میں پہنچتے ۔
موشپوری کے نام کے بارے میں دو نظریات ہیں ۔۔۔۔۔ ایک مہا بھارت والا ۔۔۔۔۔ جہاں سے مہابھارت کی جنگ عظیم کے دوران ۔۔۔۔۔۔ سیتا دیوی اور کرشن جی مہاراج کے زخموں کو بھرنے کیلئے ان کا ایک جرنیل ۔۔۔۔۔ ہنو مان جی ۔۔۔۔۔ پوری موشپوری کو اٹھا کر لے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ دوسرا نظریہ مقامی ہے اور اس کا تعلق موجودہ موجوال ڈھونڈ عباسی برادری کے جد امجد ،،،،، موج خان ،،،،، سے کے نام سے ماخوذ ہے ۔۔۔۔۔۔ موج خان ۔۔۔۔۔ پندرھویں صدی کے ایک فیوڈل لارڈ تھے، نکودر خان ان کے ہم عصر تھے ۔۔۔۔۔۔ خاندانی تقسیم میں موش پوری کی چوٹی سے لیکر موجودہ وی سی باسیاں کے کچھ حصے سمیت کنیر کے مغربی کنارے تک شرقاً غرباً اور پورا ہوترول، پوری نکر موجوال، ہوتریڑی اور موہڑہ کا کچھ حصہ ان کی ملکیت بنا ۔۔۔۔۔ وہ سال میں دو بار اپنی بہک سردیوں میں نکر موجوال اور گرمیوں میں مونی ڈھیری لے جاتے تھے ۔۔۔۔۔ وہ ایک سخی، مہماندار اور شب زندہ دار بزرگ تھے ۔۔۔۔۔ اپنی ان صفات کی وجہ سے وہ بے حد مشہور بھی تھے ۔۔۔۔ کہتے ہیں ان کی وفات تک موشپوری کا نام بھی نتھیا گلی ہی تھا مگر ان کے پردہ پوشی کے بعد پہلے اس جگہ کا نام ۔۔۔۔۔ موج پوری اور پھر بگڑ کر ،،،،، موشپوری ،،،، ہو گیا ۔
عصر حاضر میں بھی ہر شاعر کو موشپوری نے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کے پہلے عربی، فارسی اور اردو شاعر، عالم دین اور ماڈرن ٹیچر مولانا محمد یعقوب علوی بیروٹوی بھی موشپوری سے صرف نظر نہیں کر سکے ہیں ۔۔۔۔۔ اپنی کتاب ،،،،، نغمہ جہاد ،،،،، میں موشپوری کو یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ؎
عطا کی محکمی اور، سربلندی کوہساروں کو
ردائے برف سے مستور کر دی ان کی پیشانی
ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے سابق ٹیچر اور بیروٹ سے مانسہرہ ہجرت کرنے والے سابق ٹیچر اور شاعر ۔۔۔۔۔ اقبال حسین شاہ مخلص بیروٹوی ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ ؎
اے کوہ موشپوری ۔۔۔۔۔ اے شاخ کوہ ہمالہ
ادنیٰ کسی کے فن کا، تو بھی تو ہے حوالہ
اسی طرح ۔۔۔۔۔۔ بکوٹ کے انیسویں صدی کے یو سی بکوٹ کے شاعرغلام غوث کیانی نے بھی اپنے پنجابی شاعری کے کتابچے میں موشپوری کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو خانپور کے راجہ خانی زمان کیانی نے اپنی کتاب ،،،،، تاریخ گکھڑاں ،،،،، میں پورا دیا ہے ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ اور بالخصوص وی سی باسیاں کے علمی جدون خاندان کی پہلی اور فی الحال آخری خاتون شاعرہ ۔۔۔۔۔ فخرالنساء فخری جدون ۔۔۔۔۔۔ نے بھی اپنی پنجابی کتاب میں کوہ موشپوری کو بڑا پر اثر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
------------------------
بدھ23/جنوری2019
ممبران ڈسٹرکٹ و تحصیل کونسل
خالد عباس عباسی
قاضی سجاول خان
ابن مشرف نظام میں یونین کونسل بیروٹ کے پہلے ناظم
طاہر فراز عباسی ایڈووکیٹ
ابن مشرف نظام میں بیروٹ کے دوسرے اور آخری ناظم
آفاق احمد عباسی
چیئرمین وی سی بیروٹ خورد
رحیم دادا عباسی آف بھن
Chairman VC Julyal, Bandi
آخری جنرل سیکرٹری یونین کونسل بیروٹ
اعجاز احمد عباسی آف نکر موجوال، بیروٹ خورد
یوسی بیروٹ کے چھ ویلیج ناظمین کے ساتھ گروپ فوٹو
THIS IS UNION COUNCIL BIROTE TODAY
![]() |
روزنامہ آئینہ جہاں اسلام اباد، 11اکتوبر، 2915 |
A view of Birote from Osea
Knair Kas
A boundrilin in between Birote and Birote Khurd
A boundrilin in between Birote and Birote Khurd
![]() |
A bus of late Nisar Abbasi That never get in way to R Pindi since 2005. It was a competitive traveling source for Birotians more than 2.5 decade. It is converting into a scrape at Maira, as old building of GHSS Birote Now. A bus of late Nisar Abbasi A new look of late Nisar Abbasi bus now in 2017 A bus en-route to Basian (1998) Tahmmun........... Eastern Birote Kelala, VC Basian
Basian، باسیاں
Basian (باسیاں) is the last end of Union Council Birote and populated town of union council with majority of Mojwal and Andwal sub tribe of Dhund Abbasies. Other tribes are Qureshies, Awans (not Alvi Awans) and Jadoons.
Word Basian Origin
The word BASIAN is derived from a landlord named BASS KHAN of old era of Circle Bakote when Dhund Abbasi tribe first populated here. Who was Bass Khan? He was a landlord of this town in 14th century, as narrated by Imteaz Abbasi son of Iqbal Khan of Basian, ph 0343-1557613
متے خانے تخت ہزارہ، باس خانے باسیاں
ست ناڑے درے اگیں ، سبھے گلاں راسیاں
BACKGROUND OF VERSE
It was time in 16th century, very wast landed were possessed by land owners as Nikoder Khan, Fateh Khan, Khan Dada, Lahr Khan and others. Bass Khan was a landlord among others. Matta Khan was in Lora and his blood relations with Numbel's land lords. Once he sent his workers as Mirasi or Nai for new blood relationship at Numbel but Numbel Sardars not entertained them. They returned back and stayed at Bass Khan at night. His peasants inquired these people about their travel in Basian and they narrated all story about Matta Khan and Numble's Sardars. Peasants urgently informed Bass Khan the whole story and he ordered for royal reception of peasants of Matta Khan. They surprised but understood strategy of their host. Next day peasants held a friendship package along new relationship as his daughter was as daughter in Law of Matta Khan. This was first blood relation that tied up between Basian (UC Birote now) and Lora. Bass Khan was a influential Chief (of Dhund Abbasies or Kethwals), so this village was named as BASIAN after his death. <Read More>
Knair Pull, a view from Gujer Kohala |
![]() | ||||||
Knair Pull or Neelum Point This is last end of UC Birote in North.
|
![]() |
Hotrerhi and Naker Mojwal in Birote Khurd Village Sanghrerhi & Narhi Hoter, Birote Khurd View from Sangralan, Birote Mohrha, Moni Dheri & BHU in Birte Khurd |
![]() |
Bhan in Birote Khurd view from Basian Bhan in Birote Khurd View from Zearat Shareef Upper Bhan, Birote Khurd Zearat Shareef View from Bhan in Birote Khurd |
![]() |
Syed Fazal H Shah The most prestigious classical teacher of Birote Molana Mohammed Yaqoob Alvi Birotvi He was teacher by profession and first Urdu, Persian and Arabic poet of Circle Bakote |
![]() |
Village Hotrerhi, Birote Khurd Village Kotli & Chelattan in Birote Khurd Village Hotrerhi & Naker Mojwal in Birote Khurd |
![]() | ||
Birote village BOARD near GHSS Birote on Upper Dewal Kohala Road Board ...... Kahu East |
![]() |
The Central Grand Masque of village Birote Mohammed Shafi Qureshi He is younger son of Raja Mohammed Amin Khan (The first co transporter of Birote) He was an Indian Kashmiri member of Parliament, Governor of Bihar on 1991-93, Governor of Madhya Pradesh on 1993, and Governor of Uttar Pradesh on May 3, 1996 BIROTIANS IN PAKISTAN ARMED FORCES
Commander Aziz Khan
of Trmutheian, VC Kahoo East
Father of Iftekhar Aziz Abbasi,
the first high ranked officer of Pakistani Foreign Ministry
Gen Maksood Abbasi, (Elder brother of Afaq Abbasi, Nazim Birote) First high ranked Pak Army officer from Birote. Brig. (R) Musadik Abbasi Ex Director NAB in Islamabad from Birote Col. Mushtaq Qureshi of Sangralan, Birote Ex Director Humderd University Islamabad |
![]() |
Village Mohrha, Birote Khurd in winter. |
![]() |
Village Hotrole, Famous for rice growing in near past KPK & Punjab boundry line at Suleyal, Lower Birote
سرکل بکوٹ میں روشنی کے سفر کی داستاں
اگر بجلی نہ ہو تو ۔۔۔ زندگی ادھوری بلکہ نا مکمل لگتی
ہے
اہلیان کوہسار گھروں کو گرم رکھنے اور روشنی کیلئے
دیہلیاں جلایا کرتے تھے
دئیے میں سرسوں کے تیل میں سوتری ڈال دیتے تھے ہمیں سرخ
لو عطا کرتے تھے
پہلی اور دوسری جنگ کے بعد ہمارے فوجی روشنی کا ایک نیا چراغ لائے یہ
لالٹین یا بتی تھی
1935مری شہر بشمول سنی بنک، کلڈنہ، جھیکا گلی، گھڑیال اور
لوئر ٹوپہ میں اور1940میں گھوڑا ڈھاکہ (موجودہ خاسپور) بجلی کے قمقموں سے جگمگانے
لگے
۔1982میں دیول سے تین سالوں کا سفر طے کر کے بجلی بیروٹ پہنچ سکی
سرکل بکوٹ دو فیڈرز میں تقسیم ، بیروٹ کے 63 اور نمبل سمیت ککمنگ تک 55
ٹرانسفارمرز کیلئے بیروٹ کلاں اور خورد کو دو اور نمبل فیڈر کو بارہ ملازمین دئے
گئے
بیروٹ کلاں اور خورد کو دو فیڈرز میں تقسیم کر کے ہر
وارڈ میں ایک ایک واپڈا اہلکار تعینات کیا جائے اور شکایات مراکز کھولے جائیں
۔۔۔۔۔ وی سی بیروٹ کلاں کے چیئرمین ندیم عباسی اور ان کی کابینہ کا مطالبہ
***************************
تحقیق و تحریر: عبیداللہ علوی
****************************
آج ہم تاریخ کے ترقی یافتہ ترین دور میں رہ رہے ہیں، اس دور کی روٹی
کپڑا اور مکان کے علاوہ زندگی بسر کرنے کی لازمی ضرورت ۔۔۔ بجلی ۔۔۔ اور رابطے کے
علاوہ انٹر نیٹ اور پر خطر مقامات پر سلفیاں بنانے کیلئے ۔۔۔ اینڈرائیڈ یا ٹچ
موبائل ۔۔۔ ہے، کچھ دیر کیلئے ۔۔۔ موبائل کو بھول جائیے ۔۔۔ لیکن اگر بجلی نہ ہو
تو ۔۔۔ زندگی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ادھوری بلکہ نا مکمل لگتی ہے ۔۔۔ میں اورآپ
وزیر اعظم نواز شریف کی حقیقی بڑی بہن کے بیٹے اور وفاقی وزیر واپڈا چوہدری عابد
شیر علی خان کوجھولیاں پھیلا کر بد دعائیں دیتے ہیں ۔۔۔ کہ تم نے ہمیں پتھر کے دور
میں پہنچا دیا ۔۔۔ بجلی نہ ہو تو ۔۔۔ تو اپنا گھر بھی اجڑا ہوا دیار لگتا ہے ۔۔۔
جہاں دل لگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ نئی نسل اس دور کو نہیں جانتی جب ہم
اہلیان کوہسار ۔۔۔ گھروں کو گرم رکھنے اور روشنی کیلئے دیہلیاں جلایا کرتے تھے،
پھر ہم نے ترقی کی تو ۔۔۔ ہمارے گھر دئیے سے آشنا ہوئے ۔۔۔ سرسوں کے تیل میں ہم
سوتری ڈال دیتے تھے ۔۔۔ یہ سوتری تیل چوس کر ہمیں مچلتی ہوئی سرخ لو عطا کرتی تھی
۔۔۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم لڑنے کیلئے جانے والے ہمارے جوان فوزی (فوجی) انگریزوں
کے ساتھ ایشیائے کوچک، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور مشرق بعید کے محاذوں پر گئے ۔۔۔
واپسی پر وہاں سے اپنے ساتھ کراکری (چینی کے برتن)، چائے اورحقہ کے علاوہ روشنی
بکھیرنے والا ایک نئے قسم کا جرمن ساختہ چراغ بھی لائے جسے ہم ۔۔۔ لالٹین یا بتی
۔۔۔ کہا کرتے تھے ۔۔۔ ہم تاریک دور سے۔۔۔ نیم تاریک دور میں داخل ہو گئے، 1952کے
بعد ہمیں نیم تاریک دور سے نیم روشن دور میں داخلہ ملا ۔۔۔ یہ پیٹرو میکس، گیس یا
بڑے بت ۔۔۔ کا دور تھا ۔ اور اسے ہم اجتماعی خوشی غمی کی تقریب میں جلا کر 20 والٹ
کے بلب جیسی روشنی حاصل کرتے تھے ۔۔۔ بتی اور اس میں صرف یہ فرق تھا کہ اس میں
سٹوپ کی طڑھ ہوا بھری جاتی تھی اور ایک مینٹل اس میں لگایا جاتا تھا ۔۔۔۔ مینٹل ہی
زرد مگر تیز روشنی بکھیرتا تھا ۔
1935میں مری شہر بشمول سنی بنک، کلڈنہ، جھیکا گلی، گھڑیال اور لوئر ٹوپہ اور1940میں گھوڑا ڈھاکہ (موجودہ خاسپور) بجلی کے قمقموں سے جگمگانے لگے ۔۔۔ 1981میں دیول میں بجلی آچکی تھی اور ہم اہلیان سرکل بکوٹ ۔۔۔ حسرت بھری نظروں سے اس طرف دیکھتے تو دل اچھل کر ۔۔۔ منہ میں آ جاتا تھا ۔۔۔ سابق صدر جنرل ضیاالحق مرحوم نے ۔۔۔ ہمارے لئے بجلی منظور کی جو ۔۔۔1982میں دیول سے تین سالوں کا سفر طے کر کے بیروٹ پہنچ سکی ۔۔۔ ہم اہلیان بیروٹ نے اللہ کے فضل و کرم سے ۔۔۔ بجلی کے باقاعدہ استعمال سے پہلے ۔۔۔ آزمائشی یا ٹرائی کے طور پر ۔۔۔ اپنے ماہرین بجلی کے کنڈا سسٹم سے سب سے پہلے خانہ خدا یعنی مساجد کو اس سے روشن کیا ۔۔۔ کیا مزا ہوتا ہے چوری کی بجلی سے روشن بلبو ں کی لو ۔۔۔ اور۔۔۔ چلتے پنکھوں کی ہوا میں ۔۔۔ فرضی اور نفلی عبادت کا ۔۔۔ ؟ اس کی بابت وہ پنجگانہ نمازوں کے عبادت گزار بہتر بتا سکتے ہیں ۔۔۔ جنہوں نے اللہ کے سامنے جبین نیاز کو سجدہ کراتے اور لبوں سے ذکر کرتے ہوئے چوری کی اس بجلی کی برکتیں لوٹی ہوں ۔۔۔ پھر ۔۔۔ ہم باقاعدہ سرکاری میٹروں والی بجلی استعمال کرنے لگے ۔۔۔ اب ہم جدید دور میں نہ صرف داخل ہو گئے تھے بلکہ ۔۔۔ ماڈرن بھی ہو گئے تھے ۔۔۔ ہمارا طرز حیات (Life style) بھی بدل گیا ۔۔۔ زبان (Language) بھی نہ صرف ماڈرن بلکہ بدن بولی (Body Language) سے بھی ہم بیروٹ کے ہوتے ہوئے بھی بیروٹ کے نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔ طرز معاشرت میں بھی جدت سے رچ بس گئی تھی ۔۔۔ یہاں تک کہ کمپیوٹر اور موبائل آنے کے بعد ۔۔۔ ہم الٹرا ماڈرن میرا تھن ریس میں دوڑے جا رہے ہیں ۔۔۔ کیونکہ ہم نے ابھی مزید ترقی کرنا ہے ، خواہ ہمارے تعلیمی ادارے ٹنٹوں میں، طبی ادارے مساجد کے تہہ خانوں میں ۔۔۔ یا ان کی عمارات میں گدھے ہی کیوں نہ بندھے ہوئے ہوں ۔۔۔ ہم نے ابھی ترق ترق کر مزید ترقی کرنا ہے ۔۔۔ بجلی آئے کافی عرصہ ہو گیا تھا ۔۔۔ حکومت نے کے پی کے کے ساتھ ہمارا رشتہ مزید مضبوط کرنے کی سوچی ۔۔۔ ہم اہلیان بیروٹ سے باسیاں میں گرڈ سٹیشن کے لئے زمین مانگی ۔۔۔ بادشاہو ۔۔۔ ہم پہلے ہی کنالوں سے مرلوں میں آ چکے ہیں، ہمارے پاس زمین کہاں ۔۔۔؟ واپڈا نے یہ گرڈ سٹیشن مناسہ آزاد کشمیر کی وسیع اور فالتو زمینوں پر شفٹ کر دیا جہاں صرف ڈیڑھ کنال اراضی پر قائم اس گرڈ سٹیشن میں 85 سے زائد مقامی لوگ ملازمت کر رہے ہیں، دو تین ہوٹل اور چند دکانیں بھی مقامی لوگوں کو روٹی روزی فراہم کر رہی ہیں۔۔۔ اس گرڈ سٹیشن کی تکمیل کے ساتھ ہی ہمارا جھیکا گلی سے بجلی کا رشتہ ختم ہو گیا اور سرکل بکوٹ کو بجلی فراہمی کی ذمہ داری مناسہ کے نازک کندھون پر آ پڑی ۔۔۔ ایک دوسال بعد ۔۔۔ مناسہ کے ملازمین نے متفقہ طور پر ۔۔۔ اپنی رٹ (Writ) نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور ۔۔۔ وقت بے وقت ۔۔۔ وقفے وقفے سے اور پھر طویل اور لگا تار بجلی بند ہونے لگی ۔۔۔ اہلیان سرکل بکوٹ کی بھی ایک رٹ تھی ۔۔۔ مگر اس رٹ کا طویل لوڈ شیڈنگ نے بھرکس نکال دیا ۔۔۔ شکایت مرکز تک پہنچی ۔۔۔ تو آن واحد میں رٹ نافذ کرنے والے سب ملازمین کے تبادلے ہو گئے ۔۔۔ مزید ریلیف دینے کیلئے ۔۔۔ سرکل بکوٹ کو دو فیڈرز میں تقسیم کر دیا گیا، بیروٹ کے 63 اور نمبل سمیت ککمنگ تک 55 ٹرانسفارمرز کیلئے بیروٹ اور نمبل میں ایک ایک فیڈر بنا کر بیروٹ کلاں اور خورد کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلئے دو اور نمبل فیڈر کو 14ملازمین دئے گئے ۔۔۔ بجلی کی دونوں علاقوں کو بلا تعطل بجلی فراہمی ہونے لگی ۔۔۔ مگر ۔۔۔ کبھی بجلی کا کوئی مسئلہ باسیاں میں پیدا ہوتا تو پتا چلتا کہ ایک ملازم دیول کے نیچے بانڈی سیداں میں تاریں درست کر رہا ہے، دوسرا لہورمیں بجلی درستگی میں مصروف ہے ۔۔۔ اس بجلی فالٹ کی درستگی کیلئے اہلیان باسیاں سمیت بیروٹ خورد کے بجلی صارفین کو آج کل تین دن سے ایک ہفتہ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا چائیے ۔۔۔؟ آج صبح ہی ویلیج کونسل بیروٹ کلاں کے سیاہ سفید کے مالک چیئرمین ندیم عباسی اور ان کی کابینہ سے بات ہوئی ۔۔۔ اس مسئلے پر سب کا متفقہ مطالبہ تھا کہ ۔۔۔ بیروٹ کلاں اور خورد کو ۔۔۔ دو فیڈرز میں تقسیم کیا جائے اور ۔۔۔ دونوں وی سیز کی ہر وارڈ میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلئے ایک ایک واپڈا اہلکار تعینات کیا جائے ۔۔۔ اس سے جہاں لوگوں کی شکایات کا بر وقت ازالہ ہو گا وہاں ہی واپڈا کے ریونیو میں بھی اضافہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ ۔۔۔ بیروٹ کلاں اور خورد میں دو شکایات سینٹر بھی اسی طرح کھولے جائیں ۔۔۔ جیسے نمبل فیڈر کی ہر وی سی میں کھولے گئے ہیں ۔۔۔ کاش۔۔۔ ہمارے ضلعی نمائندے جناب خالد عباس عباسی صاحب اور سادے سے درویش تحصیل نمائندے جناب قاضی سجاول صاحب بھی اپنی بے حد گھریلو اور پارٹی مصروفیات سے ۔۔۔ کچھ لمحات نکال کر ۔۔۔ بیروٹ کلاں اور خورد کے بجلی صارفین کا یہ مسئلہ بھی حل کروا سکیں ۔۔۔ سرداران ملکوٹ اور ایبٹ آبادی ڈاکٹروں سے ۔۔۔ اس سلسلے میں کوئی توقع رکھنا ۔۔۔ اپنے آپ سے ۔۔۔ فراڈ کرنے کے مترادف ہے۔ چلتے چلتے ۔۔۔ اہلیان مولیا کو مبارکباد ہو ۔۔۔ 300 روپے میں لوڈ شیڈنگ فری بجلی کی مبارکباد ۔۔۔ مگر آج کی نیوز کے مطابق ۔۔۔ آپ کو بھی اپر اور لوئر کی سیاست میں الجھایا جا رہا ہے ۔۔۔ یاد رکھئیے ۔۔۔ میرے اور آپ کے سیاستکاروں کی سیاسی زندگی ۔۔۔ آپ کے اختلافات میں ہے ۔۔۔ پھر آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ ۔۔۔ لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی ۔۔۔۔؟ (یہ آرٹیکل روزنامہ آئینہ جہاں اسلام آباد میں 25 اگست 2016 کو شائع ہوا)
****************************
ہم اہلیان بیروٹ گزشتہ دس روز سےپانی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔۔۔۔۔
بیروٹ کی ایک بیٹی کا پیغام
-------------- کل بدھ کو اپنی مدد آپ کے تحت پانی لائن کی مرمتی کے بعد بحال کر دیا گیاہے ۔۔۔۔ ندیم عباسی، چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں کا جواب -------------- اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وی سی کے ہر محلہ میں کمیٹیاں تشکیل دے کر سو روپیہ فی گھر اکٹھا کیا جاوے گا ۔۔۔۔ جس کی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات ہر ایک کیلئے اوپن ہوں گی۔ ------------- پہلے ہی پانی پورا نہیں ہو رہا اس لئے نئے کنکشن نہیں دئے جا رہے ۔۔۔۔۔ عبیداللہ علوی سے ٹیلیفونک گفتگو -------------- یہ واٹر پائپ لائن آفاق عباسی کے دور نظامت میں فرزند بیروٹ بریگیڈیئر مصدق عباسی کی بیروٹیوں کیلئے عطا ہے ۔۔۔۔ یوٹیلیٹی سٹور اور ایک ایمبولینس بھی انہی کا ایک احسان تھا۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ جہاں میں پیدا ہوا ۔۔۔۔ پلا بڑھا اور تعلیم حاصل کی ۔۔۔۔ پیٹ کے اس جہنم اور کچھ ہماری زندگی کو تعلیمی اور طبی اداروں کی عدم موجودگی میں دوزخ بنانے والوں کی مہربانیوں سے آج میں اپنی جنت سے بہت دور جنوب سے آنے والی ملتانی اور لاہوری باد صر صر (Heat waves) کی وجہ سے اگر جل کر کوئلہ نہیں ہوا ہوں مگر تندور پر بیٹھا ہوا کوئی نانبائی ضرور بن چکا ہوں ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ اتنی گرمی میں بھی جب ۔۔۔۔ بیروٹ کے موجودہ دنوں کے باد نسیم (Sea breeze)سے بھیگے ہوئے موسم کا تصور باندھتا ہوں تو ۔۔۔۔ میرا اندر ٹھنڈا ٹھار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ پرسوں میں دفتر کے اے سی زدہ ماحول میں بیٹھا اسی بیروٹ کے موسم میں کھویا ہوا تھا کہ ۔۔۔۔ بیروٹ کی ایک بیٹی کا میسیج آیا ، وہ میسیج اسی کے الفاظ میں کاپی کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔ یہ بیٹی لکھتی ہے کہ ۔۔۔۔ Slam Alive sb Birote ma 10 din sy pani band hay and ham log boht mushkil ka shaker hain .... plz ap information lain is masly ko highlights krain میں کافی مصروف تھا، اس روز تو نہیں، کل دفتر پہنچتے ہی وی سی بیروٹ کے چیئرمین ندیم عباسی کو فون کیا اور ان کے سامنے بیروٹ کی اس بیٹی کا بیان کردہ مسئلہ رکھا ۔ علوی صاحب ، کل (منگل) ہم نے بیروٹ کا پچھلے تین سے بند پانی کو بحال کردیا ہے ۔۔۔۔ میرے لینڈ لائن فون پر بیروٹ کلاں کے وی سی چیئرمین ندیم عباسی نے کال رسیو کرنے کے فوری بعد میرے دعا سلام کے بعد بیروٹ میں پانی کی بندش کے بارے میں بیروٹ کی پریشان بیٹی کے حوالے سے میرے سوال کے جواب میں انہوں نے اس مسئلہ کی نوعیت سمجھاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ آج کل بیروٹ خورد میں سڑکوں کا کام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری پائپ لائن ٹوٹ جاتی ہے، پہلے ہم ایک دن سے زیادہ پائپ لائن کو ٹھیک کرنے میں ٹائم نہیں لیتے تھے کیونکہ نو ماہ قبل تک اس پائپ لائن کے صارفین ایک سو روپے ماہانہ ادا کرتے تھے اور یہ فنڈ ہمارے پاس ہر وقت موجود ہوتا تھا ۔۔۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۔۔۔۔ 270 روز قبل ہمارے بیروٹوی صارفین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یو سی بیروٹ کے ممبران اور واٹر کمیٹی والے ہم سے لئے گئے سو روپے کو ذاتی استعمال میں لا رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ ایک قسم کا طعنہ تھا جس سے واٹر کمیٹی کے اراکین بہت برہم ہوئے اور یہ ٹیکس لینا ہی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ موجودہ فالٹ آنے کے بعد ہمارے پاس پھوٹی کوڑی نہیں تھی، ہم نے اس لائن کی دیکھ بھال کیلئے مقامی طور پر ایک ملازم بھی رکھا ہوا تھا جس کو ہم تین ہزار روپے ماہانہ ادا کرتے تھے ۔۔۔۔ جب لوگوں نے پیسے دینے بند کئے تو اس کی بھی چھٹی ہو گئی ۔۔۔۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی صورت میں ہمارے سامنے دو صورتیں تھیں ۔ اول ۔۔۔۔ ہم محکمہ کو لکھتے کہ وہ آ کر ہماری لائن کو مرمت کرتا۔ دوئم ۔۔۔۔ اپنی مدد آپ کے تحت جیسے ہمارے بزرگوں نے ہائر سیکنڈری سکول برائے طلبا تعمیر کیا تھا ایسے ہی چندہ کریں اور لائن ٹھیک کریں ۔ محکمہ کو خط لکھنے کا مطلب یہ تھا کہ ۔۔۔۔ لمی باڑی نیں بنئیوں ۔۔۔۔ یعنی خط لکھ کر ہم لمبی تان کر سو جاویں اورمحکمے کے بابوئوں کا جاگنے کا انتظار کریں جب تک آج بیروٹ میں پیدا ہپونے والا بچہ بھی شادی کے قابل جاوے گا ۔۔۔۔ تب تک بیروٹ والے ہوترول کے پانی کے استعمال کے بارے میں لہور کے پانیوں کی طرح ۔۔۔۔ کشمیر کی آزادی تک انتظار کریں ۔۔۔۔ یہ طریقہ افورڈیبل نہیں تھا ۔۔۔۔ اس لئے ویلیج کونسل نے بگلوٹیاں مسجد میں معززین علاقہ کا ایک اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا ۔۔۔۔ اجلاس میں شریک معززین نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا ۔۔۔۔ موقع پر عطیات کی صورت میں 30 ہزار روپے جمع ہوئے، ہم نے پلمبر کو بلایا، اس کا پلانٹ گاڑی پر رکھا، جہاں سے لائن ٹوٹی ہوئی تھی وہاں پہنچے، اسے مرمت کروایا اور کل سے بیروٹویوں کیلئے پانی دوبارہ جاری ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اب اس میں چاہیں سالن پکائیں، نہائیں، گھر کو نہلائیں یا ۔۔۔۔۔؟ چیئرمین صاحب ۔۔۔ یہ تو تھُک تھغڑی (عارضی انتظام) والا کام ہے، اگر آئندہ واٹر لائن پھٹ گئی یا ٹوٹ گئی تو یہ پھر کیسے بحال ہو گی ۔۔۔۔؟ میں نے سوال کیا ۔۔۔۔۔ علوی صاحب، منگل کو اس مسئلہ کا مستقل بنیادوں پر حل نکالا گیا ہے ۔۔۔۔ ہم نے وی سی بیروٹ کلاں کے بلدیاتی نمائندوں اور عوام علاقہ کی کل (منگل) میٹنگ کال کی تھی جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ۔۔۔۔ وی سی کے ہر محلہ میں کمیٹی تشکیل دے کر سو روپیہ فی گھر اس لائن کیلئے فنڈ جمع کیا جاوے گا اور یہ پیسے بی ایچ یو بیروٹ کے مقامی ملازم اور میڈیکل سٹور کے ذولفقار عباسی کے پاس جمع کروا کر رسید حاصل کی جاوے گی، جمع شدہ رقم نیشنل بنک بیروٹ میں سابق اکائونٹ میں جمع کر دی جاوے گی ۔۔۔۔ واٹر لائن کے مقامی ملازم کو دوبارہ بحال کر کے اسے لائن کی راخی (حفاظت) کی ذمہ داری بھی سونپی جا رہی ہے ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ وی سی چیئرمین کمیٹیوں سے ہونے والی آمدن اور اخراجات کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے ویلیج کونسل کے تمام سٹیک ہولڈرز اور پانی کے صارفین کو بھی آگاہ کرنے کا پابند ہو گا ۔۔۔۔ یہ حسابات بیروٹ کے ہر آدمی کیلئے اوپن ہوں گے ۔۔۔۔۔۔ انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ راقم السطور اپنی فیملی کو جھلسا دینے والی پنڈی کی گرمی میں رمضان المبارک میں بیروٹ بھیجنا چاہتا تھا مگر ۔۔۔۔ پانی کے مسئلے کی وجہ سے اس پر عمل نہ کر سکا ۔۔۔۔ میں نے وی سی بیروٹ کے چیئرمیں ندیم عباسی سے پوچھا کہ ۔۔۔۔ نئے کنکشن دینے کی پالیسی کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ۔۔۔۔ فی الحال نئے کنکشن نہیں دئے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ ہوترول سے جو پانی آ رہا ہے وہ پہلے ہی پورا نہیں ہو رہا ۔۔۔۔ تا ہم انہوں نے بتایا کہ لائن پر میرا کے مقام پر ایک اور ٹینک بنا دیا گیا ہے تا کہ مزید پانی سٹور کیا جا سکے ۔۔۔۔ اور پھر میں نے انہیں خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔ شکریہ ندیم عباسی صاحب، آپ نے مجھے اور اہلیان بیروٹ کو واٹر پائپ لائن کے بارے میں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ۔۔۔۔ امید ہے کہ بیروٹ کی مجھ سے سوال کرنے والی بیٹی بھی ندیم عباسی کے جوابات سے مطمئن ہو چکی ہو گی۔ یہ واٹر لائن ۔۔۔۔ چند سال قبل برادرم آفاق عباسی کی نظامت کے آخری دنوں میں فرزند بیروٹ بریگیڈیئر(ر) مصدق عباسی کی صدیوں سے تریہے (پیاسے) بیروٹویوں پران کا نیب کے ایک سابق افیسر کی حیثیت سے کرم ہے ۔۔۔۔ انہوں نے اہلیان بیروٹ کو یوٹیلیٹی سٹور اور ایک ایمبولینس بھی دلوائی تھی ۔۔۔۔ ایمبولینس عرصہ ہوا فروخت چکی، پیسے کس کی پاکٹ میں ہیں اس بارے میں بھی ندیم عباسی، آفاق عباسی یا خالد عباسی صاحب کو لوگوں کو بتانا چاہئیے ۔۔۔۔ بیروٹ کا یوٹیلیٹی سٹور بھی لمحہ موجود میں مقامی صارفین کی بے مثال خدمت میں مصروف ہے مگر اس سے بھی زیادہ اس سٹور کے وجود سے مقامی دکانداروں کو اب راولپنڈی سے سودا نہیں منگوانا پڑتا کیونکہ رات کے پچھلے پہر بیروٹ بازار کے چوکیدار کی موجودگی میں ۔۔۔۔ یہ یوٹیلیٹی سٹور جس محنت سے مقامی دکانداروں کی خدمت کرتا ہے ایسی پنڈی کے آڑھتی بھی ان کی خدمت بجا نہیں لا سکتے ۔۔۔۔ خاص خاص ایام پر یہ سٹور بیروٹ کے خواص کو تو کوئی ۔۔۔۔۔۔ تھُڑھ (کمی) ۔۔۔۔ تو لگنے نہیں دیتا بلکہ میرے اور آپ جیسے ۔۔۔۔ عام آدمی ۔۔۔۔ کو اپنے فیض یافتہ دکانداروں کی شاپس کی طرف ریفر ضرور کرتا ہے ۔۔۔۔ بلکل ایسے ہی جیسے کسی بیروٹوی کو کھانسی یا زکام سے بڑی کوئی مرض لا حق ہو جاوے تو بی ایچ یو بیروٹ کا عملہ اسے ۔۔۔۔ چھپڑاں میں میرے محترم ماموں جان ڈاکٹر (ر) الیاس شاہ صاحب کے کاشانے کی طرف ۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔ ہوتریڑی چوک کے ایک اتائی کے کلینک پر بھیجنے کا فرض بھی نہایت خلوص اور ایمانداری انجام دیتا ہے۔۔۔۔۔ تیرہ جولائی، 2017)
**************************
یو سی بیروٹ کی سب سے پہلی واٹر سپلائی سکیم کے پانی نے آ گے جانے سے انکار کر دیا
کہو شرقی میں کربلا کا عالم
--------------------- پانی کی کمی یو سی بیروٹ میں چار پائپ لائنوں سے بیروٹ خورد سےپانی لے آئی ۔۔۔۔ اہلیان بیروٹ خورد سراپا احتجاج۔---------------------- بیروٹ خورد والو ۔۔۔۔ آپ کی قیادت نے وہ سیاسی گناہ کبیرہ کیا ہے جس کی سزا آپ کی آئندہ نسلیں صدیوں تک بھگتیں گی ۔ --------------------- آپ کی لیڈر شپ تو ۔۔۔۔ بیروٹ خورد میں ہائی سکول برائے طالبات کی تعمیر کیلئے جگہ کے تعین پر لڑتی رہی اور لاکھوں روپے کے فنڈز لیپس ہو گئے ہیں۔--------------------- جنت کیلئے خود ہی مرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اٹھو اور اپنے اندر اپنے حقوق کے حصول کا جذبہ اور طاقت پیدا کرو۔
**************************
تحقیق و تحریر
------------------
محمد عبیداللہ علوی
***************************
سرکل بکوٹ کی 35 پی یچ ڈیز کی حامل سب سے زیادہ تعلیم یافتہ یو سی بیروٹ میں اس وقت ۔۔۔۔ لہور سے کہو شرقی، پہتلاں، بیروٹ خورد سے کولالیاں ، بیروٹ کلاں، نڑی ہوتر بیروٹ خورد سے بیروٹ کلاں اور ہوترول بیروٹ خورد سے براستہ ہوتریڑی چوک گلند کوٹ وسطی باسیاں تک ۔۔۔۔ چار واٹر سپلائی سکیمیں آپریشنل ہیں ۔۔۔۔ ان سب سکیموں سے پرانی واٹر سپلائی سکیم لہور کہو غربی سے کہو شرقی تک ہے ، 1987 میں سردار مہتاب خان کی 45 لاکھ روپے سے مکمل ہونے والی بیروٹ کلاں کیلئے حد ترمٹھیاں سے لیکر تھلہ باسیاں تک کی واٹر سپلائی کیلئے اس کا ٹینک قلعہ حد کے مقام پر بنایا گیا ۔۔۔۔ پانی کی سپلائی شروع ہوئی اور اتنا پریشر والا وافر پانی تھا کہ اپنی ضروریات سے زیادہ پانی سے ہم یو سی بیروٹ والے اس پانی سے موسمی سبزیاں بھی اگانے لگے حالانکہ اس وقت ہماری باڑیاں اور ڈوغے بنجر اور جندر وں کا پتھری پہیہ کب سے گھومنا بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا پہلے ہوتریڑی چوک سے آگے پانی نے جانے سے انکار کر دیا، پھر اکھوڑاں میں پانی نے سٹاپ کر لیا ۔۔۔۔ پھر پرانے بنک والی جگہ سے آگے پانی کا جانا بند ہوا ۔۔۔۔ 1990 میں جب میں ایک سے دو ہوا تو مجھے پڑوسیوں نے حق ہمسائیگی نبھاتے ہوئے پانی دیا ۔۔۔۔ بعد ازاں جب2002 میں میں نے موجودہ وی سی کہو شرقی کے آخری ناردرن اینڈ پر گھر تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تو پانی ملتا تھا مگر ۔۔۔۔ معرفت ۔۔۔۔ کے ذریعے، یعنی پہلے میرے پڑوسی اس سے استفادہ کرتے اور پانی اگر فاضل ہوتا تو میں بھی اس سے حصہ پاتا ۔۔۔۔ طاہر فراز ایڈووکیٹ کے دور نظامت میں لیڈی کونسلر محترمہ شاہدہ اسلام عباسی اور محترم ذوق اختر عباسی کی کوششوں سے مجھے بھی واٹر کنکشن ملا مگر مسئلہ یہ ہوا کہ اس کنکشن کا پہرہ بھی دیا جاوے ۔۔۔۔ میں اور میرا ہمسایہ شفقت عباسی پلاسٹک ان کے کالے پائپوں کی اس واٹر سپلائی کے پہرے کے باوجود دوبار پائپوں سے محروم ہوئے ۔۔۔۔ میری پائپ لائن تعلیمی، صحت اور ملازمتوں کی مجبوریوں کے باعث راولپنڈی منتقلی کے باوجود گزشتہ سات سال سے اب بھی موجود ہے ۔۔۔۔۔ تاہم ۔۔۔۔ ابھی تک ان پائپوں سے ایک بھی آگے پیچھے نہیں ہوا ۔۔۔۔ اللہ رب العزت میرے گوانڈیوں کو چنگیاں کرے ۔۔۔۔ ان کے ہوتے ہوئے مجھے کسی پہرے کی ضرورت نہیں ۔
کہو غربی سے کہو شرقی کی واٹر سپلائی سکیم تیار تو ہو گئی مگر اس سے پانی کی تقسیم کا کوئی میکنزم موجود نہیں تھا ۔۔۔۔ جس کے جی میں آتی وہ چھینی سے اپنے گھر کے قریب سوراخ کرتا، ویلڈر کو بلاتا اور اپنے گھر اور ڈوغے تک کنکشن لگا لیتا ۔۔۔۔ نتیجہ چند سالوں میں ظاہر ہو گیا، پہلے اہلیان باسیاں، پھر اہلیان بیروٹ اور آخر میں بنی کہو شرقی میں بھی پانچ قطر کی اہنی پائپ لائن خشک ہو گئی ۔۔۔۔۔ اہلیان نکر موجوال نے بھی ان کے گھر سے گزرتی پائپ لائن سے استفادہ کرنا شروع کر دیا اور اب ان سے جو پانی بچتا ہے وہ جندراں نی ڈھیری سے کنیر کے اوپر گزر پاتا ہے ۔۔۔۔ قلعہ میں ٹینک میں جمع اس پانی کی ڈسٹری بیوشن اس طرح ہے کہ یہاں سے ہی جلیال اور صلیال کو بھی پانی دیا جا رہا ہے کیونکہ ان لوگوں کا اس پانی پر حق بھی ہے ۔۔۔۔ پھر یہ پانی ترمٹھیاں والوں کے کچن، باتھ روز میں روزانہ استعمال کے علاوہ ان کے کپڑے دھوتا اور پورے گھر کو روزانہ اندر اور باہر سے گسل دیتا ہوا زیر زمین پائپ لائنوں سے ان کے ڈوغوں میں سبزیوں اور پھولوں کے گملوں کو بھی ہرا کرتا ہے ۔۔۔۔ سرزمین ترمٹھیاں کو آپ جانتے ہیں کہ یہاں کتنے با اثر لوگوں کا بسیرا ہے ۔۔۔۔ پی ٹی آئی یو سی بیروٹ کا صدر اور میرا کلاس فیلو عابد علی عباسی، ترکی میں پاکستان کے سفیر افتخار عباسی، جماعت اسلامی ایبٹ آباد کے نائب امیر سعید عباسی، چیئرمین اسد عباسی اور ان کی بھاری بھر کابینہ کے علاوہ دن رات آزاد کشمیر کے مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کا میزبان ہوٹل، مسلم لیگ کے ایک پاور فل سٹیک ہولڈر فاروق عباسی آف سراں جیسے ہیوی ویٹ سیاسی و غیر سیاسی لوگ ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی پائپ لائن سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ڈوغوں کی پیاس اس ۔۔۔۔ قحط آب یا روڑے ۔۔۔۔ میں بجھا رہے ہیں جبکہ ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں ایک ایک قطرہ آب کیلئے راتوں کو کہو شرقی کے چشموں اور ناڑوں پر رُل رہی ہیں ۔۔۔ بنی، کہو شرقی سے نیچے دوبار لائن کی مرمت کے باوجود پانی کا گزر ایسے ہی ناممکنات میں سے ہے جیسے دریائے جہلم کاغان کی طرف بہنا شروع کر دے ۔۔۔۔ اور امید یہی ہے کہ مجھ سمیت اس ناردرن اینڈ پر رہنے والے کہو شرقی کے مکین کشمیر کی آزادی تک لہور سے آنے والے پانی کو ترستے اور سہکتے رہیں گے ۔۔۔۔ زندہ بادچیئرمین اسد عباسی اور ان کی کابینہ ۔۔۔۔ اور۔۔۔۔پائندہ باد صوبے کی انصافی حکومت کے یو سی بیروٹ کے چیئرمین عابد علی عباسی ۔ یو سی بیروٹ کی وی سی بیروٹ کیلئے سابق ڈائریکٹر نیب جناب بریگیڈئر مصدق عباسی صاحب نے ہاڑوٹہ، نڑی ہوتر سے واٹر پائپ لائن کا بندوبست کیا ۔۔۔۔ اُس وقت کے ناظم آفاق عباسی کی سخت گیر پالیسی نے لائن کو چھلنی ہونے سے بچا لیا تاہم مونڈے نی نال یعنی وی سی کہو شرقی کے جنرل کونسلر شاہ جہاں عباسی کے گھر تک اسی وی سی بیروٹ نے ہی پانی دیا ہے اور اس پانی کی لائینیں میرے گھر کے پیچھے سے گزر رہی ہیں ۔۔۔۔ اس طرح چیئرمین اسد عباسی کے آدھے سر کا درد چیئرمین ندیم عباسی کی اس فراہمی آب سے ختم ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اسی طرح جب ممبر ضلع کونسل بیروٹ کے گھر تک جناب بریگیڈئر مصدق عباسی کے اس لائن سے پانی نے پہنچنے سے انکار کیا تو انہوں ہوترول کے واٹر ریسورس سے ایک اور پائپ لائن منظور کروا لی، اس کا فنڈ ایم پی اے نے دیا یا ایم این اے نے اور کتنا دیا ، میں ان اعداد و شمار سے نابلد ہوں البتہ اس کا چندہ نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ اس پر کام جاری ہے اور اہلیان لمیاں لڑاں کا کہنا ہے کہ انہیں اس پانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔۔۔ اس کا جواب خالد صاحب ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ۔ اہلیان باسیاں پانی کی فراہمی کے لحاظ سے خوش قسمت ہیں، پہلے انہوں نے مرکزی جامع مسجد سہریاں باسیاں کے عقب میں بورنگ کروائی اور معمولی سی رقم کے عوض پانی کی ہر گھر کو سپلائی شروع کی جس کا پانی میرے سسرال کو بھی ملا اور اب تک مل رہا ہے ۔۔۔۔ غالباً (میں بھول رہا ہوں کہ کس کی فنڈنگ سے) ان کیلئے ہوترول سے براستہ ہوتریڑی چوک باسیاں کی تھلہ تک واٹر سپلائی سکیم منظور ہو کر چھ ماہ میں ہی آپریشنل ہو گئی، چند سالوں بعد تھلہ جانے والی پائپ لائن خشک ہو گئی اور یہ مسئلہ ہمارے سیاسی قائدین (کون سے، ،مجھے معلوم نہیں) نے حل کر دیا اور ایک ار سکیم نے ہوترول سے ہی پانی تھلہ لا کر لوگوں کے خشک تالو اور حلق تر کر رہے ہیں ۔۔۔۔ جس نے بھی یہ کام کیا ہے یو سی بیروٹ کے لوگوں کی دعائیں پنشن کی صورت میں صبح قیامت تک اس کے ساتھ ہیں ۔ ہوترول اور کہوغربی کے لوگ اس وقت سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں کہ ان کے ریسورس سے ہی یو سی بیروٹ اور کہو شرقی کو تو پانی دیا گیا مگر انہیں محروم رکھا گیا ہے ۔۔۔۔ راقم السطور ان کی اس محرومی کو ان کی قیادت کا سیاسی گناہ کبیرہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔ میں بیروٹ خورد کے قارئین کے سامنے چند سوال رکھتا ہوں کہ ۔۔۔۔ اولاً ۔۔۔۔ جس وقت واٹر سپلائی کی یہ سکیمیں منظور ہوئیں تو آپ نے اپنے حق کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔ حالانکہ ۔۔۔۔ سروے سے ہٹ کر بیروعٹ خورد کے ایک بااثر سیاسی سٹیک ہولڈر نے لہور میں اپنی کوڑیوں کے ویرانے کروڑوں روپے کے بنانے کیلئے سوار گلی روڈ میں دو موڑ بھی بنوا لئے ۔۔۔۔ آپ کیوں نہیں بولے ۔ ثانیاً ۔۔۔۔ جب بیروٹ کلاں کی سکیم سردار مہتاب نے منظور کی تو بھی آپ اپنے حق کیلئے کیوں خاموش رہے ۔ ثالثا ً۔۔۔۔ ہوترول والوں نے بھی ابھی اپنے حق کے حصول میں کیوں کوتاہی کی ۔۔۔۔ بیروٹ کلاں کی سکیم کیلئے کے پی کے حکومت یا ایم این ایے نے ایک پائی ھی نہیں دی، یہ بریگیڈئر مصدق عباسی کا منصوبہ تھا ۔ رابعاً ۔۔۔۔ اب بھی خالد عباسی کو کوئی سرکاری گرانٹ ملی ہی ہے تب وسطی بیروٹ کی لائن کی تنصیب ہو رہی ہے ۔۔۔۔ آپ اپنے درویش ممبر تحصیل کونسل جناب قاضی سجاول خان کو کوئی سکیم بیروٹ خورد لانے کیلئے کیوں نہیں کہتے ۔ خامساً ۔۔۔۔ باسیاں کے لوگ، جہاں سے بھی فنڈز ملتے ہیں لیتے ہیں ۔۔۔۔ یا اپنے حقوق کیلئے تحصیل، ضلع اور صوبے کے مرکز کی طرف چلتے ہی رہتے ہیں اور ایم پی اے اور ایم این اے سے اپنا حق لیکر ہی اٹھتے ہیں، تحریک تحصیل سرکل بکوٹ کی جدوجہد کیلئے بھی قیادت باسیاں سے ہی اٹھی ہے ۔۔۔۔ بیروٹ خورد والو، یو سی بیروٹ کی چار وی سیز نے اپنے بچوں کے سکول و کالج کیلئے وہ ایکسی لیٹر دبایا کہ ممبر ضلع کونسل، وی سیز کے چاروں چیئرمینوں اور ان کی کابینہ نے سردار فرید سے فنڈز لیکر فوراً سے پہلے ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کی دو منزلہ شاندار عمارت کھڑی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اور یہ سیاسی گناہ کبیرہ کس کا ہے کہ ۔۔۔۔ آپ کو ایم پی اے سردار فرید خان کے گرلز ہائی سکول کی بلڈنگز کیلئے فنڈز بھی ملے اور آپ جگہ کے تعین میں لڑتے رہے اور پچھلے جون میں آپ یہ خطیر رقم بھی کھو بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی پلیٹ میں رکھ کر آپ کو آپ کا حق دے گا تو یہ آپ کی وہ غلطی ہے جس کی سزا آپ کی اولادیں صدیوں تک بھگتتی رہیں گی ۔۔۔۔ مجھے افسوس بیروٹ خورد کے صاحبان قلم و کیمرہ پر بھی آ رہا ہے کہ وہ بھی عوامی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہے ۔۔۔۔ شاکر عباسی، شاہد عباسی، بلال بصیر عباسی، غضنفر علی عباسی اور ایک مقامی روزنامہ کے چیف ایڈیٹر اشتیاق عباسی بھی کانڈھاں کے حقوق کی بات کرنےسے پہلے سوبار سوچتے ہیں کہ ۔۔۔۔ کہیں ان کے سیاسی بڑوں سے تعلقات خراب نہ جاویں اور ۔۔۔۔ ان کی اشتہرات کی پائپ لائن نہ بند ہو جاوے ۔۔۔۔۔ پہلے آپ خود اپنے حقوق کیلئے اٹھیں گے، پھر باقی لوگ بھی آپ کا ساتھ دینگے ۔۔۔۔۔ کیونکہ جنت کے حصول کیلئے مرنا خود ہی پڑتا ہے ورنہ ۔۔۔۔ حال کشمیر، فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں جیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کاررواں کے دل سے، احساس زیاں جاتا رہا ************************** فنڈز لیپس ہو گئے ۔۔۔۔ بیروٹ خورد کے دو اپ لفٹ پروگرامز بھی تعطل کا شکار ہو نے کی اطلاعات ----------------- ہوتریڑی تا بی، ایچ، یو موہڑہ روڈ پر جاری تمام کام چند ماہ سے بند ------------------ حالیہ بجٹ میں ۔۔۔ ایم،پی،اے نذیر عباسی ۔۔۔ کے لمپ سلمپ ڈیمانڈوں کے باوجود ایک پھوٹی کوڑی تک نہ مل سکی ۔۔۔ بیروٹ خورد کے حقوق کی واحد نمائندہ تنظیم تحریکِ تعمیر کا دعویٰ ******************** تحقیقی و تفتیشی رپورٹ بشکریہ بلال بصیر عباسی نمائندہ خصوصی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ ۔۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ ********************
یروٹ خورد کے دو اپ لفٹ پروگرامز لمحہ
موجود میں تعطل کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ہوتریڑی تا بی،ایچ،یو موہڑہ روڈ پر
جاری تمام کام بھی چند ماہ سے بند پڑے ہیں جبکہ حالیہ بجٹ میں ایم، پی، اے
نذیر عباسی کے لمپ سلمپ ڈیمانڈز کے باوجود ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں مل سکی
ہے ۔۔۔۔۔۔۔ گورنمنٹ گرلز سیکنڈری سکول موہڑہ، بیروٹ خورد کا پی سی ون تاحال
ڈایریکٹوریٹ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکشن میں فائلوں میں اپنی حسرتوں پر
رو رہا ہے ۔۔۔
***************** بیروٹ خورد کے حقوق کی واحد نمائندہ تنظیم ۔۔۔۔ تحریکِ تعمیر ۔۔۔۔ نے بی، ایچ، یو موہڑہ کی عمارت کا مسئلہ پروگرام منیجر ایرا و پیرا، ڈائریکٹر ایم اینڈ ای ایرا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ایبٹ آباد کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کر کے حل کروا دیا ہے ۔۔۔۔ جلد میڈیکل افیسر کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جاوے گی ۔۔۔۔ ہوتریڑی تا بی، ایچ، یو موہڑہ روڈ پر ایم، پی، اے نذیر عباسی کی مداخلت کی وجہ سے جاری شدہ فنڈز بھی لیپس ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ وائے ناکامی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ متاع کاررواں جاتا رہا کاررواں کے دل سے، احساس زیاں جاتا رہا
------------------------------
26 Nov، 2018
بیروٹ نیں دولڑھکے ہوئے تے آر سی سی پُلاں ۔۔۔۔۔ نی گل *********************************************** دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا ۔۔۔۔ درمیاں رہے ************************************************ موجودہ وی سی بیروٹ خورد کے پردیس میں بسلسلہ ملازمت یا کاروبار مقیم لوگ اپنے ملخ کا رخ کرنے سے پہلے سوچتے تھے کہ اپنے اس ملخ میں کیا بارش تو نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہو رہی ہے تو اس کی شدت کتنی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بیروٹ کلاں اور خورد کے درمیان کشمیر کی کنٹرول لائن کی حیثیت رکھنے والی ،،،،،، کنیر ،،،،،، کے بپھرے اور شاں شاں کرتے پہتے چکڑھ نما پانی کو عبور کر سکیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ------------------- مہم جو طبیعت اہل یو سی بیروٹ کو وافر مقدار یا تعداد میں ۔۔۔۔۔۔ حوصلہ اور ہمت ۔۔۔۔۔۔ عطا کرنے میں قدرت نے فیاضی سے کام لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پرانے دور کی مختلف ذرائع سے ملنے والی سچی، نیم سچی اور کُوڑی و مطلق ُکوڑی روایات کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں کے بعض تہن ساتھرے (اولوالعزم لوگ) کنیر کے شمال کی طرف بپھرے سرکش اور اپنے سر سے اونچے پانیوں کے اندر و اندر ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ کنیر انہیں ہر سنیہا دے رہی ہوتی تھی کہ ؎ کنیر کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام باڈی کسی کی پار ہو یا ۔۔۔۔۔ درمیاں رہے --------------------- بیروٹ خورد کے سوشل ورکر ۔۔۔۔۔۔۔ غضنفر علی عباسی آف نڑی ہوتر ۔۔۔۔۔۔۔ کی فوٹو جرنل ازم کے سلسلے میں نگاہ انتخاب بے حد Exclusive ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے گبنج منڈی، راجہ بازار، راولپنڈی کے ایک بڑے تاجر ہیں اور بزنس کمیونٹی میں بڑا نام کمایا ہے، اکثر بزنس ٹور پر آزاد کشمیر اور پوٹھوہار آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کا موبائل ان کے یہ کاروباری دورے لائیو دکھاتا بھی رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اہلیان علاقہ کو ہمیشہ وہی آئیٹم پیش کرتے ہیں جو مجھ جیسے نالائْقوں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ذیل کا فوٹو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا ہوتریڑی اور بیروٹ کلاں کے درمیان کنیر پل کو غور سے دیکھئے تو اس کے پس منظر میں ایک اور چوبی معلق پل نظر آوے گا جو 1973ء سے اہل بیروٹ خورد کی خدمت کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور غالباً 2002ء تک اس کے سہارے بارش یا سہانے موسم میں بلا تمیز بزرگ، مرد و خواتین، ہر عمر کے بچوں کے علاوہ بکریوں اور بھیڑوں کے ٹبر سے تعلق رکھنے والے مویشی بھی بلا روک ٹوک بیروٹ کلاں سے خورد اور خورد سے کلاں میں آ جا سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ اہل بیروٹ خورد کی ہی روائت ہے کہ کالی کالواخ پھگن چیتر (موجودہ ہندی مہینے) کی لمبی راتوں میں رزق کے حصول کیلئے گیدڑوں، شیر جیسے جانور کی مشیر خاص پھنڈ وغیرہ گولی کی رفتار سے بلا تکلف اور بے خوف و خطر ۔۔۔۔۔۔ اس معلق چوبی پل کو عبور کرتے دیکھے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ راقم الحروف نے اس پل کو آخری بار زیارت شریف جاتے ہوئے 1997ء میں عبور کرنے کی سعادت حاصل کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ لمحہ موجود میں غضنفر صاحب کی تصویر بتا رہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ چوبی پل اس وقت موجود تو ہے مگر بیروٹ خورد والی سائیڈ سے آدھا لٹک رہا ہے اور باقی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ساری پل کی لکڑی نے جہاں جہاں پہنچنا تھا وہ پہنچ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حیران ہوں کہ لکڑی سے زیادہ قیمتی تو وہ آہنی رسے تھے جن کے وسیلے سے کاٹھ کا یہ پل خود لٹک کر اہل بیروٹ خورد کو اُرار پار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ان رسوں کو اپنانے اور اپنی بانہوں میں سمیٹنے کیلئے ابھی تک کسی کی نظر التفات ان پر نہیں پڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہم سب کے سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے اگر کوئی سوچے اور سمجھے تو ۔۔۔۔۔۔۔؟ |